| Mufti Abdul Waheed Jalali - Central Spokesperson | Sunni Ulema Council Pakistan |
مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید ایک عہد ساز شخصیت
مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
اسلامی دنیا کی عظیم شخصیت، اھلسنت عوام و خواص کے دلوں کے حکمران مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید 1953ء میں پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل سمندری میں مجلس احرار الاسلام کے نامور عالم دین مولانا محمد علی جانباز مرحوم کے گھر پیدا ہوئے، انہوں نے درس نظامی میں سند فراغت ملک کی مشہور و قدیم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کی. اور عصری علوم میں یونیورسٹی آف پنجاب سے ٹاپ نمبروں میں گریجویشن کیا. سپاہ صحابہ پاکستان کی بنیاد سے قبل چونکہ ایک ہی جماعت ہوتی تھی جمعیت علماء اسلام علامہ فاروقی شھید ایک عرصہ تک جمعیت طلباء اسلام اور پھر جمعیت علماء اسلام کی اھم ذمہ داریوں پر فائز رھے. جب پڑوسی ملک ایران میں خمینی ازم مسلط ہوا تو اسکے کچھ ہی عرصہ بعد وطن عزیز پاکستان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی شان میں ایک منظم انداز سے گستاخیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک منظم سازش کے تحت ایرانی انقلاب کے لیئے ملک میں راہیں ہموار کرنے کی ناپاک کوششیں عروج پر پہنچیں تو امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ایرانی مکروہ عزائم کے رد عمل میں دفاع صحابہ و رد رافضیت و غلبہ دین کے لیئے تحریک کی بنیاد رکھی تو مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نے امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید کا دست و بازو بنتے ہوئے صحابہ کرام و اھلبیت اطہار رضی اللہ عنھم کی عزت و عظمت کا پرچار اور ان مقدس ہستیوں کی ناموس کے دفاع کے لیئے اور نظام خلافت راشدہ کے عملی نفاذ کے لیئے اپنی زندگی کو وقف کر دیا اور اس عنوان پر ابتداء تحریک سے ہی قائدانہ کردار ادا کیا. 22 فروری 1990ء کو امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ کی شھادت کے بعد مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کو امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید کا جانشین اور سپاہ صحابہ پاکستان کا سربراہ منتخب کیا گیا تو علامہ فاروقی شھید نے ملک بھر میں جماعت کو منظم کرتے ہوئے سپاہ صحابہ پاکستان کو وطن عزیز پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی قوت بنا کر کھڑا کر دیا. ملک کے ہر صوبہ کے چھوٹے و بڑے شہروں و اضلاع میں یونٹس قائم کیئے اور اسٹوڈنٹس ،وکلاء برادری ،تاجر برادری، ڈاکٹرز اور زمینداروں میں اور علماء کرام و پروفیسرز میں جماعت کو منظم کر کے ایک منفرد تنظیمی لیڈر ہونے کی مثال قائم کی۔
مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید زیرک دماغ لیڈر تھے
اللہ تعالیٰ نے علامہ فاروقی شھید کو کمال ذھانت اور قوت حافظہ سے نوازا تھا. گفتگو کرتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے موتی پروئے جارھے ھیں
آپ طبیعت کے اعتبار سے نہایت نفیس تھے اور علم و عمل کے ساتھ ساتھ کردار کے بھی غازی تھے
اللہ تعالیٰ نے آپ کو کمال صبر و حوصلہ عطاء فرمایا تھا. جہاں آپ نے دشمن کی چیخیں نکلوائیں وھاں اپنے دوستوں کے اعتراضات کے جوابات نہایت خوش اسلوبی و خندہ پیشانی سے دیتے تھے اور بجا و بے جا تنقید کو بھی مسکرا کر برداشت کرتے تھے اور کامیاب لیڈر کی یہی نشانی ہوتی ہے
علامہ فاروقی شھید قادر الکلام ہونے کے ساتھ ساتھ محقق عالم دین تھے یہی وجہ تھی کہ مقتدر حلقے ہوں یا زمیندار. وکلاء و تاجر ہوں یا ڈاکٹرز و پروفیسرز آپ ایک نشست میں انہیں اپنے مشن و مؤقف کے لیئے قائل کر دیتے تھے۔
مؤرخ اسلام ،بحر العلوم حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید. نے سپاہ صحابہ پاکستان.کے سربراہ کی حثیت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و ناموس کے دفاع کے لیئے بھرپور سعی جمیلہ فرمائی اور ایرانی آلہ کاروں کو ہر میدان میں ناکوں چنے چبوائے. علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید علمی دنیا کا ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ ساتھ نڈر، بہادر اور جرات مند مذھبی لیڈر تھے آپ کے دور میں ایسا وقت بھی آیا کہ وطن عزیز پاکستان میں موجود ایرانی آلہ کار دھشت گرد تکفیری گروہ ایران بھاگنے پر مجبور ہوا. فرقہ واریت کے خاتمہ، دھشت گردی کے خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کے لیئے بھرپور کردار ادا کیا. بارہا حکومتی سطح پر مقتدر حلقوں سے مذاکرات کے ذریعہ صحابہ کرام و اھلبیت اطہار رضی اللہ عنھم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیئے قانون سازی کے لیئے راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی۔
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید بےباک خطیب،سرگرم کارکن اور ممتاز مصنف تھے. آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ ملک میں نفاذ اسلام ،تحفظ ختم نبوت ،تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت کی جدوجہد میں مسلسل اور سرگرم کردار ادا کیا۔
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید محب وطن مذھبی لیڈر تھے. ناموس صحابہ و اھلبیت کے تحفظ اور رد رفض کی پاداش میں متعدد بار آپ کو قید و بند کی صعوبتوں سے گذرنا پڑا مگر آپ نے مشن و مؤقف پر ہر گز کبھی بھی لچک نہ دکھائی
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی فکر کے حامل اور شیخ الھند کے افکار کے امین تھے. آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا. 1970ء کے عام انتخابات میں سابق وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد(جو اب خیبر پختون خواہ ھے) جناب مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کی انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا یہی وجہ تھی کہ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد آپ ایک مدت تک انکے سیاسی طور پر دست راست رھے
شھید اسلام مؤرخ اسلام ،علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نے مختلف موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتب و رسائل تصنیف و تالیف فرماۓ. جن میں
- رھبر و راہنما
- تاریخی دستاویز
- شھید کربلا
- تعلیمات آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم
- خلافت ورلڈ آرڈر
- یورپ کے سنگین مجرم
- طلوع سحر
- علمائے دیوبند کون ھیں اور کیا ھیں؟
- تحریک نظام مصطفیٰ
- شاہ فیصل ایک روشن ستارہ
زیادہ معروف ہیں۔ علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کو اللہ تعالیٰ نے جہاں فصاحت و بلاغت سے نوازا تھا وھاں آپ کو تحریر کی دنیا میں کمال ملکہ عطاء فرمایا تھا
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں خطابات فرمائے جن میں انصاف و مساوات انسانی کا درس دیا، ایک دوسرے کے حقوق و فرائضِ کی ادائیگی کی تاکید کی ،حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی پاکیزہ زندگیوں سے حاصل تعلیمات پر عمل کی تلقین فرمائی اور اپنے کردار سے ایک مجاہد کی زندگی کی نشاندہی کی. آپ نے حمایت حق اور ناموس رسالت و ناموس صحابہ و اھلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نفاذ اسلام کی خاطر نہ اپنے اعزاز و احترام کا خیال کیا اور نہ آرام و راحت کا. حمایت حق کے مشن میں آپ کو نہ عزیز و اقارب کی کوئی پرواہ تھی اور نہ مال و زر سے پیار. آپ نے اسوۃ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے ان دشوار گذار اور پرخطر وادیوں میں طعن و تشنیع کے تیر بھی کھائے اور سب و شتم کی بوچھاڑ بھی برداشت کی. زبان بندی و داخلہ بندی کے غیر دستوری حکومتی آرڈر بھی فیس کیئے مگر آپ کی زبان کلمہ حق کہنے سے باز نہ آئی
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نے مختلف مقامات پر جامعات کی بنیاد رکھی جن میں جامعہ عمر الفاروق سمندری فیصـــــــل آباد اور قصر فاروق اعظم لاھور زیادہ مشہور ھیں. دروس قرآن و مکاتیب قرآن اور بڑے اور تاریخ ساز اجتماعات کے ذریعے مسلمانوں کے دل و دماغ تک اسلام کی حقیقی اسپرٹ پہنچانے کا حق ادا کیا اور اسلامی تعلیمات کو مجاھدانہ شان کے ساتھ اجاگر کرنے کا حق ادا کیا
مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نے اپنی جماعت کے بانی لیڈر امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی عزت و ناموس کے تحفظ کا حق ادا کیا وھاں ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے جاگیرداروں سے میدان سیاست میں پنجہ آزمائی کر کے انہیں ناکوں چنے چبوائے شھید قائد کے ضلع جھنگ سے علامہ ایثار القاسمی شھید اور علامہ محمد اعظم طارق شھید کو انتخابی میدان میں اتار کے بڑے بڑے جاگیرداروں کو انتخابات میں شکست سے دوچار کرتے ہوئے ایرانی ایماء پر دفاع صحابہ کے مشن میں بڑی رکاوٹ بدمعاش جاگیرداروں کا طاقت کا غرور خاک میں ملایا اور اپنی جماعت کے ان درویش صفت علماء کو پارلیمنٹ کا ممبر بنوایا تو دنیا حیران رہ گئ کہ ان علاقوں میں تو غریب عوام کو جاگیرداروں کے سامنے بولنا تو درکنار ووٹ دینے کا حق بھی حاصل نہ تھا اور ایک بوریا نشین نے انکے برسوں سے قائم ظلم و جور کے تخت الٹ کر رکھ دیئے
علامہ فاروقی شھید نے اپنے عمل و کردار سے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ قدیم اسلامی طرز کی درسگاہوں کے فارغ التحصیل علماء جدید دور کی شاطرانہ جمہوری فضاء میں دیانتدارانہ سیاست کی اھلیت رکھتے ہیں
علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید نڈر،بہادر شخصیت تھے ،پرجوش و باوقار خطیب تھے، حق گوئی و بیباکی انکا طرہ امتیاز تھا، جبر و استبداد اور ظلم و جور کے حربے انہیں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نظام خلافت راشدہ کے عملی نفاذ کی جدوجہد سے پیچھے نہ ہٹا سکے. امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید کی شھادت کے بعد جب سپاہ صحابہ پاکستان کی سربراہی کا تاج مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کے سر سجایا گیا تو موصوف نے اپنی گرانقدر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جماعت کی مرکزی کابینہ اور صوبائی سطح پر اور تختانی سطح پر باڈیز تشکیل دیتے ہوئے جماعت کی مرکزی شوریٰ بنائی اور باقاعدہ تنظیم کا دفتری نظام قائم کیا
یہ کریڈٹ بھی علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کو جاتا ہے کہ انہوں نے جماعت کی قیادت سنبھالنے کے بعد صرف پہلے پانچ سالوں میں اس حد تک محنت کی کہ پاکستان سمیت دنیا کے 26 ممالک میں پندرہ ہزار جماعت کے یونٹس قائم کیئے اور بیس لاکھ سے زائد لوگوں نے دنیا بھر سے سپاہ صحابہ میں شمولیت اختیار کی اور علامہ فاروقی شھید نے جماعتی منصب سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد ہی اپنی جماعت کے جرنیل علامہ ایثار القاسمی شھید کو جھنگ سے قومی اسمبلی کا الیکشن جتوا کر قومی اسمبلی کا ممبر بنوایا. جماعت کی مختصر تاریخ میں قومی اسمبلی کے فلور پر امیر عزیمت شھید کے بیانیہ کا آوازہ گونجا
1995ء میں جب علامہ فاروقی شھید نے آزاد جموں و کشمیر کا تنظیمی دورہ کیا تو انقلابات کے مرکز پونچھ ڈویژن کے درجنوں نامور علماء کرام نے آپ کی تحریک کا حصہ بننے کا اعلان کیا اور یہ منظر راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہاڑی گہل ضلع باغ آزاد کشمیر کے مقام پر ایک عظیم الشان جلسہ عام میں حضرت فاروقی شھید کے خطاب کے بعد آزاد ریاست جموں و کشمیر کے صدر حکومت اور خطہ کشمیر کے نامور سیاسی لیڈر جناب سردار ابراہیم خان نے اسٹیج سے اپنے خطاب میں آپ کے لیئے تعریفی کلمات کہے اور آپ کے اصولی مؤقف کو تسلیم کیا. علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کے انتخاب سے جو رجال کار جماعت کی ذمہ داریوں کے چنے گئے اللہ تعالیٰ نے ان سے مشن حق کے لیئے خوب کام لیا کہ انمنٹ تاریخ رقم کر گئے علامہ ایثار القاسمی شھید ،علامہ محمد اعظم طارق شھید ،امام اھلسنت علامہ علی شیر حیدری شھید، قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب سمیت کئی نامور ہستیوں کا چناؤ علامہ فاروقی شھید نے ہی فرمایا تھا، قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی جو اسوقت جماعت کو لیڈ کر رہے ہیں علامہ فاروقی شھید کے قابل اعتماد رفقاء میں سے تھے اور مشکل وقت میں انہیں آپ نے قائد پنجاب بنایا تھا. جماعت کے اکابرین کی اسی ابتدائی ٹیم میں رہنے اور ورک کرنے کی وجہ سے قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کا دل بھی سمندر ہی ہے اگرچہ آپ کا تعلق کمالیہ سے ہے نہ کہ سمندری سے اور علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ آج بھی علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کے ویژن کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں
اپنے سے بڑے کی تکریم میں علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کا کردار اسلامی تحریکوں کی لیڈر شپ کے لیئے ضرب المثل ہے آپ کی قیادت کے دور میں خطیب یورپ و ایشیاء علامہ ضیاء القاسمی مرحوم ہماری جماعت کی سپریم کونسل کے چیئرمین تھے یہی وجہ تھی کہ وقت کے جید علمائے کرام آپ کی تحریک کا حصہ رہے ہیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے شھید قائد علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین
Ahle Sunnat Wal Jamaat Balochistan
اھلسنت والجماعت بلوچستان
Also Read
Post a Comment